حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کرگل (لداخ)/ انجمنِ صاحب الزمان کرگل لداخ کے زیرِ اہتمام شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے چہلم کے موقع پر جامع مسجد حسن العسکری سانکو میں ایک پروقار مجلسِ ترحم کا انعقاد کیا گیا، جس میں علماء، عمائدین اور مومنین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی مولانا ڈاکٹر تسلیم احمد صدر مسلم پولیٹیکل کونسل آف انڈیا تھے، جبکہ دیگر معزز مہمانوں میں ڈاکٹر زاہد علی خان، رکنِ پارلیمنٹ سرینگر سید روح اللہ مہدی، جمعیت علماء اور اے کے ایم ٹی کے نمائندگان سمیت مختلف دینی و سماجی اداروں کے ذمہ داران شریک ہوئے۔
پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ نظامت کے فرائض سعید عین الہدی نے انجام دیے، جبکہ خطبۂ استقبالیہ عباس بہشتی نے پیش کیا۔
ڈاکٹر زاہد علی خان نے اپنے خطاب میں شہید آیت اللہ خامنہ ای کی حیات و خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایسی عظیم شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں اور ان کی قربانیاں امتِ مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ ہوتی ہیں۔
مہمانِ خصوصی مولانا ڈاکٹر تسلیم احمد نے اپنے خطاب میں یہ اشعار کو نقل کرتے ہوئے کہا: “ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے، بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا۔”
انہوں نے کہا کہ شہداء کا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا اور ان کی قربانیوں نے دنیا بھر میں بیداری پیدا کی ہے۔ انہوں نے اہلِ کرگل کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سب سے پہلے صدائے احتجاج بلند کی۔ واقعۂ کربلا کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا: “قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے، اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد۔” انہوں نے اتحادِ بین المسلمین پر بھی زور دیا۔
رکنِ پارلیمنٹ سید روح اللہ مہدی نے اپنے خطاب میں عالمی حالات، خصوصاً فلسطین میں جاری مظالم پر روشنی ڈالی اور امتِ مسلمہ کو اتحاد و یکجہتی کی تلقین کی۔ آخر میں شیخ صادق بلاغی نے مصائب اور دعا کے ساتھ مجلس کا اختتام کیا۔









آپ کا تبصرہ